کلامِ میرردیف الف
بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا
بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگامآل اپنا ترے غم میں خدا جانے کہ کیا ہوگا
تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہوگاوہی پاوے گا میرا درد دل جس کا لگا ہوگا
کسو کو شوق یا رب بیش اس سے اور کیا ہوگاقلم ہاتھ آ گئی ہوگی تو سو سو خط لکھا ہوگا
دکانیں حسن کی آگے ترے تختہ ہوئی ہوں گیجو تو بازار میں ہوگا تو یوسف کب بکا ہوگا
معیشت ہم فقیروں کی سی اخوان زماں سے کرکوئی گالی بھی دے تو کہہ بھلا بھائی بھلا ہوگا
خیال اس بے وفا کا ہم نشیں اتنا نہیں اچھاگماں رکھتے تھے ہم بھی یہ کہ ہم سے آشنا ہوگا
قیامت کر کے اب تعبیر جس کو کرتی ہے خلقتوہ اس کوچے میں اک آشوب سا شاید ہوا ہوگا
عجب کیا ہے ہلاک عشق میں فرہاد و مجنوں کےمحبت روگ ہے کوئی کہ کم اس سے جیا ہوگا
نہ ہو کیوں غیرت گلزار وہ کوچہ خدا جانےلہو اس خاک پر کن کن عزیزوں کا گرا ہوگا
بہت ہم سایے اس گلشن کے زنجیری رہا ہوں میںکبھو تم نے بھی میرا شور نالوں کا سنا ہوگا
نہیں جز عرش جاگا راہ میں لینے کو دم اس کےقفس سے تن کے مرغ روح میرا جب رہا ہوگا
کہیں ہیں میرؔ کو مارا گیا شب اس کے کوچے میںکہیں وحشت میں شاید بیٹھے بیٹھے اٹھ گیا ہوگا
۱۵ / ۵۸۲