کلامِ میرردیف الف
بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا
۱
بے کسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہااک دل غم خوار رکھتے تھے سو گلشن میں رہا
۲
پنجۂ گل کی طرح دیوانگی میں ہاتھ کوگر نکالا میں گریباں سے تو دامن میں رہا
۳
شمع ساں جلتے رہے لیکن نہ توڑا یار سےرشتۂ الفت تمامی عمر گردن میں رہا
۴
ڈر سے اس شمشیر زن کے جوہر آئینہ ساںسر سے لے کر پاؤں تک میں غرق آہن میں رہا
۵
ہم نہ کہتے تھے کہ مت دیر و حرم کی راہ چلاب یہ دعویٰ حشر تک شیخ و برہمن میں رہا
۶
درپئے دل ہی رہے اس چہرے کے خال سیاہڈر ہمیں ان چونٹوں کا روز روشن میں رہا
۷
آہ کس انداز سے گزرا بیاباں سے کہ میرؔجی ہر اک نخچیر کا اس صید افگن میں رہا
۱۶ / ۵۸۲