کلامِ میرردیف الف
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گا
۱
جو اس شور سے میرؔ روتا رہے گاتو ہمسایہ کاہے کو سوتا رہے گا
۲
میں وہ رونے والا جہاں سے چلا ہوںجسے ابر ہر سال روتا رہے گا
۳
مجھے کام رونے سے اکثر ہے ناصحتو کب تک مرے منہ کو دھوتا رہے گا
۴
بس اے گریہ آنکھیں تری کیا نہیں ہیںکہاں تک جہاں کو ڈبوتا رہے گا
۵
مرے دل نے وہ نالہ پیدا کیا ہےجرس کے بھی جو ہوش کھوتا رہے گا
۶
تو یوں گالیاں غیر کو شوق سے دےہمیں کچھ کہے گا تو ہوتا رہے گا
۷
بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسوؤں کوتو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا
۱۷ / ۵۸۲