کلامِ میرردیف الف
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھاخورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھاپیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیںمعلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیمیک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
مجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیرکیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوادیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیااس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہراس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیایکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبرمیں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔسمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
۱۸ / ۵۸۲