کلامِ میرردیف الف
جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگا
۱
جو تو ہی صنم ہم سے بے زار ہوگاتو جینا ہمیں اپنا دشوار ہوگا
۲
غم ہجر رکھے گا بے تاب دل کوہمیں کڑھتے کڑھتے کچھ آزار ہوگا
۳
جو افراط الفت ہے ایسا تو عاشقکوئی دن میں برسوں کا بیمار ہوگا
۴
اچٹتی ملاقات کب تک رہے گیکبھو تو تہ دل سے بھی یار ہوگا
۵
تجھے دیکھ کر لگ گیا دل نہ جاناکہ اس سنگ دل سے ہمیں پیار ہوگا
۶
لگا کرنے ہجران سختی سے سختیخدا جانے کیا آخر کار ہوگا
۷
یہی ہوگا کیا ہوگا میرؔ ہی نہ ہوں گےجو تو ہوگا بے یار غم خوار ہوگا
۱۹ / ۵۸۲