کلامِ میرردیف الف
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارا
تیرا رخ مخطط قرآن ہے ہمارابوسہ بھی لیں تو کیا ہے ایمان ہے ہمارا
گر ہے یہ بے قراری تو رہ چکا بغل میںدو روز دل ہمارا مہمان ہے ہمارا
ہیں اس خراب دل سے مشہور شہر خوباںاس ساری بستی میں گھر ویران ہے ہمارا
مشکل بہت ہے ہم سا پھر کوئی ہاتھ آنایوں مارنا تو پیارے آسان ہے ہمارا
ادریس و خضر و عیسیٰ قاتل سے ہم چھڑائےان خوں گرفتگاں پر احسان ہے ہمارا
ہم وے ہیں سن رکھو تم مر جائیں رک کے یکجاکیا کوچہ کوچہ پھرنا عنوان ہے ہمارا
ہیں صید گہ کے میری صیاد کیا نہ دھڑکےکہتے ہیں صید جو ہے بے جان ہے ہمارا
کرتے ہیں باتیں کس کس ہنگامے کی یہ زاہددیوان حشر گویا دیوان ہے ہمارا
خورشید رو کا پرتو آنکھوں میں روز ہے گایعنی کہ شرق رویہ دالان ہے ہمارا
ماہیت دو عالم کھاتی پھرے ہے غوطےیک قطرہ خون یہ دل طوفان ہے ہمارا
نالے میں اپنے ہر شب آتے ہیں ہم بھی پنہاںغافل تری گلی میں مندان ہے ہمارا
کیا خانداں کا اپنے تجھ سے کہیں تقدسروح القدس اک ادنیٰ دربان ہے ہمارا
کرتا ہے کام وہ دل جو عقل میں نہ آوےگھر کا مشیر کتنا نادان ہے ہمارا
جی جا نہ آہ ظالم تیرا ہی تو ہے سب کچھکس منہ سے پھر کہیں جی قربان ہے ہمارا
بنجر زمین دل کی ہے میرؔ ملک اپنیپر داغ سینہ مہر فرمان ہے ہمارا
۲۰ / ۵۸۲