کلامِ میرردیف الف
جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگا
۱
جو یہ دل ہے تو کیا سرانجام ہوگاتا خاک بھی خاک آرام ہوگا
۲
مرا جی تو آنکھوں میں آیا یہ سنتےکہ دیدار بھی ایک دن عام ہوگا
۳
نہ ہوگا وہ دیکھا جسے کبک تو نےوہ اک باغ کا سرو اندام ہوگا
۴
نہ نکلا کر اتنا بھی بے پردہ گھر سےبہت اس میں ظالم تو بدنام ہوگا
۵
ہزاروں کی یاں لگ گئیں چھت سے آنکھیںتو اے ماہ کس شب لب بام ہوگا
۶
وہ کچھ جانتا ہوگا زلفوں میں پھنسناجو کوئی اسیر تا دام ہوگا
۷
جگر چاکی ناکامی دنیا ہے آخرنہیں آئے جو میرؔ کچھ کام ہوگا
۲۱ / ۵۸۲