کلامِ میرردیف الف

تیر جو اس کمان سے نکلا

۱

تیر جو اس کمان سے نکلاجگر مرغ جان سے نکلا

۲

نکلی تھی تیغ بے دریغ اس کیمیں ہی اک امتحان سے نکلا

۳

گو کٹے سر کہ سوز دل جوں شمعاب تو میری زبان سے نکلا

۴

آگے اے نالہ ہے خدا کا ناؤںبس تو نہ آسمان سے نکلا

۵

چشم و دل سے جو نکلا ہجراں میںنہ کبھو بحر و کان سے نکلا

۶

مر گیا جو اسیر قید حیاتتنگنائے جہان سے نکلا

۷

دل سے مت جا کہ حیف اس کا وقتجو کوئی اس مکان سے نکلا

۸

اس کی شیریں لبی کی حسرت میںشہد پانی ہو شان سے نکلا

۹

نا مرادی کی رسم میرؔ سے ہےطور یہ اس جوان سے نکلا

۲۲ / ۵۸۲