کلامِ میرردیف الف

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیا

۱

جھمکے دکھا کے طور کو جن نے جلا دیاآئی قیامت ان نے جو پردہ اٹھا دیا

۲

اس فتنے کو جگا کے پشیماں ہوئی نسیمکیا کیا عزیز لوگوں کو ان نے سلا دیا

۳

اب بھی دماغ رفتہ ہمارا ہے عرش پرگو آسماں نے خاک میں ہم کو ملا دیا

۴

جانی نہ قدر اس گہر شب چراغ کیدل ریزۂ خزف کی طرح میں اٹھا دیا

۵

تقصیر جان دینے میں ہم نے کبھو نہ کیجب تیغ وہ بلند ہوئی سر جھکا دیا

۶

گرمی چراغ کی سی نہیں وہ مزاج میںاب دل فسردگی سے ہوں جیسے بجھا دیا

۷

وہ آگ ہو رہا ہے خدا جانے غیر نےمیری طرف سے اس کے تئیں کیا لگا دیا

۸

اتنا کہا تھا فرش تری رہ کے ہم ہوں کاشسو تو نے مار مار کے آ کر بچھا دیا

۹

اب گھٹتے گھٹتے جان میں طاقت نہیں رہیٹک لگ چلی صبا کہ دیا سا بڑھا دیا

۱۰

تنگی لگا ہے کرنے دم اپنا بھی ہر گھڑیکڑھنے نے دل کے جی کو ہمارے کھپا دیا

۱۱

کی چشم تو نے باز کہ کھولا در ستمکس مدعی خلق نے تجھ کو جگا دیا

۱۲

کیا کیا زیان میرؔ نے کھینچے ہیں عشق میںدل ہاتھ سے دیا ہے جدا سر جدا دیا

۲۳ / ۵۸۲