کلامِ میرردیف الف

جب جنوں سے ہمیں توسل تھا

۱

جب جنوں سے ہمیں توسل تھااپنی زنجیر پا ہی کا غل تھا

۲

بسترہ تھا چمن میں جوں بلبلنالہ سرمایۂ توکل تھا

۳

یک نگہ کو وفا نہ کی گویاموسم گل صفیر بلبل تھا

۴

ان نے پہچان کر ہمیں مارامنہ نہ کرنا ادھر تجاہل تھا

۵

شہر میں جو نظر پڑا اس کاکشتۂ ناز یا تغافل تھا

۶

اب تو دل کو نہ تاب ہے نہ قراریاد ایام جب تحمل تھا

۷

جا پھنسا دام زلف میں آخردل نہایت ہی بے تامل تھا

۸

یوں گئی قد کے خم ہوئے جیسےعمر اک رہرو سر پل تھا

۹

خوب دریافت جو کیا ہم نےوقت خوش میرؔ نکہت گل تھا

۲۴ / ۵۸۲