کلامِ میرردیف الف

تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہوا

۱

تیغ ستم سے اس کی مرا سر جدا ہواشکر خدا کہ حق محبت ادا ہوا

۲

قاصد کو دے کے خط نہیں کچھ بھیجنا ضرورجاتا ہے اب تو جی ہی ہمارا چلا ہوا

۳

وہ تو نہیں کہ اشک تھمے ہی نہ آنکھ سےنکلے ہے کوئی لخت دل اب سو جلا ہوا

۴

حیران رنگ باغ جہاں تھا بہت رکاتصویر کی کلی کی طرح دل نہ وا ہوا

۵

عالم کی بے فضائی سے تنگ آ گئے تھے ہمجاگا سے دل گیا جو ہمارا بجا ہوا

۶

در پے ہمارے جی کے ہوا غیر کے لیےانجام کار مدعی کا مدعا ہوا

۷

اس کے گئے پہ دل کی خرابی نہ پوچھیےجیسے کسو کا کوئی نگر ہو لٹا ہوا

۸

بد تر ہے زیست مرگ سے ہجران یار میںبیمار دل بھلا نہ ہوا تو بھلا ہوا

۹

کہتا تھا میرؔ حال تو جب تک تو تھا بھلاکچھ ضبط کرتے کرتے ترا حال کیا ہوا

۲۵ / ۵۸۲