کلامِ میرردیف الف
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہوا
۱
جدا جو پہلو سے وہ دلبر یگانہ ہواتپش کی یاں تئیں دل نے کہ درد شانہ ہوا
۲
جہاں کو فتنے سے خالی کبھو نہیں پایاہمارے وقت میں تو آفت زمانہ ہوا
۳
خلش نہیں کسو خواہش کی رات سے شایدسرکش یاس کے پردے میں دل روانہ ہوا
۴
ہم اپنے دل کی چلے دل ہی میں لیے یاں سےہزار حیف سر حرف اس سے وا نہ ہوا
۵
کھلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میرؔسمند ناز پہ ایک اور تازیانہ ہوا
۲۶ / ۵۸۲