کلامِ میرردیف الف

ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھا

۱

ترے عشق میں آگے سودا ہوا تھاپر اتنا بھی ظالم نہ رسوا ہوا تھا

۲

خزاں التفات اس پہ کرتی بجا تھییہ غنچہ چمن میں ابھی وا ہوا تھا

۳

کہاں تھا تو اس طور آنے سے میرےگلی میں تری کل تماشا ہوا تھا

۴

گئی ہوتی سر آبلوں کے پہ ہوئی خیربڑا قضیہ خاروں سے برپا ہوا تھا

۵

گریباں سے تب ہاتھ اٹھایا تھا میں نےمری اور داماں صحرا ہوا تھا

۶

زہے طالع اے میرؔ ان نے یہ پوچھاکہاں تھا تو اب تک تجھے کیا ہوا تھا

۲۷ / ۵۸۲