کلامِ میرردیف الف

جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیا

۱

جیتے جی کوچۂ دل دار سے جایا نہ گیااس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا

۲

کاو کاو مژۂ یار و دل زار و نزارگتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا

۳

وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہاہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا

۴

گرم رو راہ فنا کا نہیں ہو سکتا پتنگاس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا

۵

پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاسبے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا

۶

خاک تک کوچۂ دل دار کی چھانی ہم نےجستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا

۷

آتش تیز جدائی میں یکایک اس بندل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا

۸

مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسےپھر وہ تا صبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا

۹

زیر شمشیر ستم میرؔ تڑپنا کیساسر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا

۱۰

جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجےدرد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا

۲۸ / ۵۸۲