کلامِ میرردیف الف

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسا

۱

دامن وسیع تھا تو کاہے کو چشم ترسارحمت خدا کی تجھ کو اے ابر زور برسا

۲

شاید کباب کر کر کھایا کبوتر ان نےنامہ اڑا پھرے ہے اس کی گلی میں پر سا

۳

وحشی مزاج از بس مانوس بادیہ ہیںان کے جنوں میں جنگل اپنا ہوا ہے گھر سا

۴

جس ہاتھ میں رہا کی اس کی کمر ہمیشہاس ہاتھ مارنے کا سر پر بندھا ہے کر سا

۵

سب پیچ کی یہ باتیں ہیں شاعروں کی ورنہباریک اور نازک مو کب ہے اس کمر سا

۶

طرز نگاہ اس کی دل لے گئی سبھوں کےکیا مومن و برہمن کیا گبر اور ترسا

۷

تم واقف طریق بے طاقتی نہیں ہویاں راہ دو قدم ہے اب دور کا سفر سا

۸

کچھ بھی معاش ہے یہ کی ان نے ایک چشمکجب مدتوں ہمارا جی دیکھنے کو ترسا

۹

ٹک ترک عشق کریے لاغر بہت ہوئے ہمآدھا نہیں رہا ہے اب جسم رنج فرسا

۱۰

واعظ کو یہ جلن ہے شاید کہ فربہی سےرہتا ہے حوض ہی میں اکثر پڑا مگر سا

۱۱

انداز سے ہے پیدا سب کچھ خبر ہے اس کوگو میرؔ بے سر و پا ظاہر ہے بے خبر سا

۲۹ / ۵۸۲