کلامِ میرردیف الف

خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیا

۱

خط سے وہ زور صفائے حسن اب کم ہو گیاچاہ یوسف تھا ذقن سو چاہ رستم ہو گیا

۲

سینہ کوبی سنگ سے دل خون ہونے میں رہیحق بہ جانب تھا ہمارے سخت ماتم ہو گیا

۳

ایک سا عالم نہیں رہتا ہے اس عالم کے بیچاب جہاں کوئی نہیں یاں ایک عالم ہو گیا

۴

آنکھ کے لڑتے تری آشوب سا برپا ہوازلف کے درہم ہوئے اک جمع برہم ہو گیا

۵

اس لب جاں بخش کی حسرت نے مارا جان سےآب حیواں یمن طالع سے مرے سم ہو گیا

۶

وقت تب تک تھا تو سجدہ مسجدوں میں کفر تھافائدہ اب جب کہ قد محراب سا خم ہو گیا

۷

عشق ان شہری غزالوں کا جنوں کو اب کھنچاوحشت دل بڑھ گئی آرام جاں رم ہو گیا

۸

جی کھنچے جاتے ہیں فرط شوق سے آنکھوں کی اورجن نے دیکھا ایک دم اس کو سو بے دم ہو گیا

۹

ہم نے جو کچھ اس سے دیکھا سو خلاف چشم داشتاپنا عزرائیل وہ جان مجسم ہو گیا

۱۰

کیا کہوں کیا طرحیں بدلیں چاہ نے آخر کو میرؔتھا گرہ جو درد چھاتی میں سو اب غم ہو گیا

۳۲ / ۵۸۲