کلامِ میرردیف الف

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویا

۱

دامان کوہ میں جو میں ڈاڑھ مار رویااک ابر واں سے اٹھ کر بے اختیار رویا

۲

پڑتا نہ تھا بھروسا عہد وفاے گل پرمرغ چمن نہ سمجھا میں تو ہزار رویا

۳

ہر گل زمین یاں کی رونے ہی کی جگہ تھیمانند ابر ہر جا میں زار زار رویا

۴

تھی مصلحت کہ رک کر ہجراں میں جان دیجےدل کھول کر نہ غم میں میں ایک بار رویا

۵

اک عجز عشق اس کا اسباب صد الم تھاکل میرؔ سے بہت میں ہو کر دو چار رویا

۳۳ / ۵۸۲