کلامِ میرردیف الف
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا
۱
دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلاآ پڑی یہ ایسی چنگاری کہ پیراہن جلا
۲
سرکشی ہی ہے جو دکھلاتی ہے اس مجلس میں داغہو سکے تو شمع ساں دیجے رگ گردن جلا
۳
بدر ساں اب آخر آخر چھا گئی مجھ پر یہ آگورنہ پہلے تھا مرا جوں ماہ نو دامن جلا
۴
کب تلک دھونی لگائے جوگیوں کی سی رہوںبیٹھے بیٹھے در پہ تیرے تو مرا آسن جلا
۵
گرمی اس آتش کے پر کالے سے رکھے چشم تبجب کوئی میری طرح سے دیوے سب تن من جلا
۶
ہو جو منت سے تو کیا وہ شب نشینی باغ کیکاٹ اپنی رات کو خار و خس گلخن جلا
۷
سوکھتے ہی آنسوؤں کے نور آنکھوں کا گیابجھ ہی جاتے ہیں دیئے جس وقت سب روغن جلا
۸
شعلہ افشانی نہیں یہ کچھ نئی اس آہ سےدوں لگی ہے ایسی ایسی بھی کہ سارا بن جلا
۹
آگ سی اک دل میں سلگے ہے کبھو بھڑکی تو میرؔدے گی میری ہڈیوں کا ڈھیر جوں ایندھن جلا
۳۴ / ۵۸۲