کلامِ میرردیف الف
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
۱
دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کاجو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا
۲
اگرچہ عمر کے دس دن یہ لب رہے خاموشسخن رہے گا سدا میری کم زبانی کا
۳
سبک ہے آوے جو مندیل رکھ نماز کو شیخرہا ہے کون سا اب وقت سرگرانی کا
۴
ہزار جان سے قربان بے پری کے ہیںخیال بھی کبھو گزرا نہ پرفشانی کا
۵
پھرے ہے کھینچے ہی تلوار مجھ پہ ہر دم توکہ صید ہوں میں تری دشمنی جانی کا
۶
نمود کر کے وہیں بحر غم میں بیٹھ گیاکہے تو میرؔ بھی اک بلبلا تھا پانی کا
۴۰ / ۵۸۲