کلامِ میرردیف الف

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا

۱

دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیارات کو سینہ بہت کوٹا گیا

۲

طائر رنگ حنا کی سی طرحدل نہ اس کے ہاتھ سے چھوٹا گیا

۳

میں نہ کہتا تھا کہ منہ کر دل کی اوراب کہاں وہ آئینہ ٹوٹا گیا

۴

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہےیہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

۵

میرؔ کس کو اب دماغ گفتگوعمر گزری ریختہ چھوٹا گیا

۴۱ / ۵۸۲