کلامِ میرردیف الف
رات پیاسا تھا میرے لوہو کا
۱
رات پیاسا تھا میرے لوہو کاہوں دوانہ ترے سگ کو کا
۲
شعلۂ آہ جوں توں اب مجھ کوفکر ہے اپنے ہر بن مو کا
۳
ہے مرے یار کی مسوں کا رشککشتہ ہوں سبزۂ لب جو کا
۴
بوسہ دینا مجھے نہ کر موقوفہے وظیفہ یہی دعا گو کا
۵
میں نے تلوار سے ہرن مارےعشق کر تیری چشم و ابرو کا
۶
شور قلقل کے ہوتی تھی مانعریش قاضی پہ رات میں تھوکا
۷
عطر آگیں ہے باد صبح مگرکھل گیا پیچ زلف خوشبو کا
۸
ایک دو ہوں تو سحر چشم کہوںکارخانہ ہے واں تو جادو کا
۹
میرؔ ہر چند میں نے چاہا لیکنہ چھپا عشق طفل بد خو کا
۱۰
نام اس کا لیا ادھر اودھراڑ گیا رنگ ہی مرے رو کا
۴۲ / ۵۸۲