کلامِ میرردیف الف

دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھا

۱

دل میں بھرا ز بسکہ خیال شراب تھامانند آئنے کے مرے گھر میں آب تھا

۲

موجیں کرے ہے بحر جہاں میں ابھی تو توجانے گا بعد مرگ کہ عالم حباب تھا

۳

اگتے تھے دست بلبل و دامان گل بہمصحن چمن نمونۂ یوم الحساب تھا

۴

ٹک دیکھ آنکھیں کھول کے اس دم کی حسرتیںجس دم یہ سوجھے گی کہ یہ عالم بھی خواب تھا

۵

دل جو نہ تھا تو رات ز خود رفتگی میں میرؔگہہ انتظار و گاہ مجھے اضطراب تھا

۴۳ / ۵۸۲