کلامِ میرردیف الف
رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگا
۱
رات سے آنسو مری آنکھوں میں پھر آنے لگایک رمق جی تھا بدن میں سو بھی گھبرانے لگا
۲
وہ لڑکپن سے نکل کر تیغ چمکانے لگاخون کرنے کا خیال اب کچھ اسے آنے لگا
۳
لعل جاں بخش اس کے تھے پوشیدہ جوں آب حیاتاب تو کوئی کوئی ان ہونٹھوں پہ مر جانے لگا
۴
حیف میں اس کے سخن پر ٹک نہ رکھا گوش کویوں تو ناصح نے کہا تھا دل نہ دیوانے لگا
۵
حبس دم کے معتقد تم ہو گے شیخ شہر کےیہ تو البتہ کہ سن کر لعن دم کھانے لگا
۶
گرم ملنا اس گل نازک طبیعت سے نہ ہوچاندنی میں رات بیٹھا تھا سو مرجھانے لگا
۷
عاشقوں کی پائمالی میں اسے اصرار ہےیعنی وہ محشر خرام اب پاؤں پھیلانے لگا
۸
چشمک اس مہ کی سی دل کش دید میں آئی نہیںگو ستارہ صبح کا بھی آنکھ جھپکانے لگا
۹
کیونکر اس آئینہ رو سے میرؔ ملیے بے حجابوہ تو اپنے عکس سے بھی دیکھو شرمانے لگا
۴۴ / ۵۸۲