کلامِ میرردیف الف
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا
۱
دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیاگھر جلا سامنے پر ہم سے بجھایا نہ گیا
۲
دل میں رہ دل میں کہ معمار قضا سے اب تکایسا مطبوع مکاں کوئی بنایا نہ گیا
۳
کبھو عاشق کا ترے جبہے سے ناخن کا خراشخط تقدیر کے مانند مٹایا نہ گیا
۴
کیا تنک حوصلہ تھے دیدہ و دل اپنے آہایک دم راز محبت کا چھپایا نہ گیا
۵
دل جو دیدار کا قاتل کے بہت بھوکا تھااس ستم کشتہ سے اک زخم بھی کھایا نہ گیا
۶
میں تو تھا صید زبوں صید گہ عشق کے بیچآپ کو خاک میں بھی خوب ملایا نہ گیا
۷
شہر دل آہ عجب جائے تھی پر اس کے گئےایسا اجڑا کہ کسی طرح بسایا نہ گیا
۸
آج رکتی نہیں خامے کی زباں رکھیے معافحرف کا طول بھی جو مجھ سے گھٹایا نہ گیا
۴۵ / ۵۸۲