کلامِ میرردیف الف
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا
۱
عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایااس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا
۲
حق ڈھونڈنے کا آپ کو آتا نہیں ورنہعالم ہے سبھی یار کہاں یار نہ پایا
۳
غیروں ہی کے ہاتھوں میں رہے دست نگاریںکب ہم نے ترے ہاتھ سے آزار نہ پایا
۴
جاتی ہے نظر خس پہ گہہ چشم پریدنیاں ہم نے پر کاہ بھی بے کار نہ پایا
۵
تصویر کے مانند لگے در ہی سے گزریمجلس میں تری ہم نے کبھو بار نہ پایا
۶
سوراخ ہے سینے میں ہر اک شخص کے تجھ سےکس دل کے طرح تیر نگہ پار نہ پایا
۷
مربوط ہیں تجھ سے بھی یہی ناکس و نااہلاس باغ میں ہم نے گل بے خار نہ پایا
۸
دم بعد جنوں مجھ میں نہ محسوس تھا یعنیجامے میں مرے یاروں نے اک تار نہ پایا
۹
آئینہ بھی حیرت سے محبت کی ہوئے ہمپر سیر ہو اس شخص کا دیدار نہ پایا
۱۰
وہ کھینچ کے شمشیر ستم رہ گیا جو میرؔخوں ریزی کا یاں کوئی سزاوار نہ پایا
۴۶ / ۵۸۲