کلامِ میرردیف الف

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا

۱

شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھاآیا شب فراق تھی یا روز جنگ تھا

۲

کثرت میں درد و غم کی نہ نکلی کوئی تپشکوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا

۳

لایا مرے مزار پہ اس کو یہ جذب عشقجس بے وفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا

۴

دیکھا ہے صید گا میں ترے صید کا جگربا آنکہ چھن رہا تھا پہ ذوق خدنگ تھا

۵

دل سے مرے لگا نہ ترا دل ہزار حیفیہ شیشہ ایک عمر سے مشتاق سنگ تھا

۶

مت کر عجب جو میرؔ ترے غم میں مر گیاجینے کا اس مریض کے کوئی بھی ڈھنگ تھا

۴۷ / ۵۸۲