کلامِ میرردیف الف

سحر گہہ عید میں دور سبو تھا

۱

سحر گہہ عید میں دور سبو تھاپر اپنے جام میں تجھ بن لہو تھا

۲

غلط تھا آپ سے غافل گزرنانہ سمجھے ہم کہ اس قالب میں تو تھا

۳

چمن کی وضع نے ہم کو کیا داغکہ ہر غنچہ دل پر آرزو تھا

۴

گل و آئینہ کیا خورشید و مہ کیاجدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا

۵

کرو گے یاد باتیں تو کہو گےکہ کوئی رفتۂ بسیار گو تھا

۶

جہاں پر ہے فسانے سے ہمارےدماغ عشق ہم کو بھی کبھو تھا

۷

مگر دیوانہ تھا گل بھی کسو کاکہ پیراہن میں سو جاگا رفو تھا

۸

کہیں کیا بال تیرے کھل گئے تھےکہ جھونکا باؤ کا کچھ مشکبو تھا

۹

نہ دیکھا میرؔ آوارہ کو لیکنغبار اک ناتواں سا کو بہ کو تھا

۴۸ / ۵۸۲