کلامِ میرردیف الف
سخن مشتاق ہے عالم ہمارا
۱
سخن مشتاق ہے عالم ہمارابہت عالم کرے گا غم ہمارا
۲
پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھےرہے گا دیر تک ماتم ہمارا
۳
نہیں ہے مرجع آدم اگر خاککدھر جاتا ہے قد خم ہمارا
۴
زمین و آسماں زیر و زبر ہےنہیں کم حشر سے اودھم ہمارا
۵
کسو کے بال درہم دیکھتے میرؔہوا ہے کام دل برہم ہمارا
۴۹ / ۵۸۲