کلامِ میرردیف الف
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا
شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کاالقصہ رفتہ رفتہ دشمن ہوا ہے جاں کا
گریے پہ رنگ آیا قید قفس سے شایدخوں ہو گیا جگر میں اب داغ گلستاں کا
لے جھاڑو ٹوکرا ہی آتا ہے صبح ہوتےجاروب کش مگر ہے خورشید اس کے ہاں کا
دی آگ رنگ گل نے واں اے صبا چمن کویاں ہم جلے قفس میں سن حال آشیاں کا
ہر صبح میرے سر پر اک حادثہ نیا ہےپیوند ہو زمیں کا شیوہ اس آسماں کا
ان صید افگنوں کا کیا ہو شکار کوئیہوتا نہیں ہے آخر کام ان کے امتحاں کا
تب تو مجھے کیا تھا تیروں سے صید اپنااب کرتے ہیں نشانہ ہر میرے استخواں کا
فتراک جس کا اکثر لوہو میں تر رہے ہےوہ قصد کب کرے ہے اس صید ناتواں کا
کم فرصتی جہاں کے مجمع کی کچھ نہ پوچھواحوال کیا کہوں میں اس مجلس رواں کا
سجدہ کریں ہیں سن کر اوباش سارے اس کوسید پسر وہ پیارا ہے گا امام بانکا
نا حق شناسی ہے یہ زاہد نہ کر برابرطاعت سے سو برس کی سجدہ اس آستاں کا
ہیں دشت اب یہ جیتے بستے تھے شہر سارےویرانۂ کہن ہے معمورہ اس جہاں کا
جس دن کہ اس کے منہ سے برقع اٹھے گا سنیواس روز سے جہاں میں خورشید پھر نہ جھانکا
نا حق یہ ظلم کرنا انصاف کہہ پیارےہے کون سی جگہ کا کس شہر کا کہاں کا
سودائی ہو تو رکھے بازار عشق میں پاسر مفت بیچتے ہیں یہ کچھ چلن ہے واں کا
سو گالی ایک چشمک اتنا سلوک تو ہےاوباش خانہ جنگ اس خوش چشم بد زباں کا
یا روئے یا رلایا اپنی تو یوں ہی گزریکیا ذکر ہم صفیراں یاران شادماں کا
قید قفس میں ہیں تو خدمت ہے نالگی کیگلشن میں تھے تو ہم کو منصب تھا روضہ خواں کا
پوچھو تو میرؔ سے کیا کوئی نظر پڑا ہےچہرہ اتر رہا ہے کچھ آج اس جواں کا
۵۰ / ۵۸۲