کلامِ میرردیف الف
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا
۱
رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کالگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا
۲
نہیں ستارے یہ سوراخ پڑ گئے ہیں تمامفلک حریف ہوا تھا ہماری آہوں کا
۳
گلی میں اس کی پھٹے کپڑوں پر مرے مت جالباس فقر ہے واں فخر بادشاہوں کا
۴
تمام زلف کے کوچے ہیں مار پیچ اس کیتجھی کو آوے دلا چلنا ایسی راہوں کا
۵
اسی جو خوبی سے لائے تجھے قیامت میںتو حرف کن نے کیا گوش دادخواہوں کا
۶
تمام عمر رہیں خاک زیر پا اس کیجو زور کچھ چلے ہم عجز دست گاہوں کا
۷
کہاں سے تہ کریں پیدا یہ ناظمان حالکہ پوچ بافی ہی ہے کام ان جلاہوں کا
۸
حساب کاہے کا روز شمار میں مجھ سےشمار ہی نہیں ہے کچھ مرے گناہوں کا
۹
تری جو آنکھیں ہیں تلوار کے تلے بھی ادھرفریب خوردہ ہے تو میرؔ کن نگاہوں کا
۵۱ / ۵۸۲