کلامِ میرردیف الف
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کاجس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفاجس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہارہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیاکام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا
رہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہراس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سرکام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہمقد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسےتشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیکمفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولےفائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نواعیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیںرنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
۵۲ / ۵۸۲