کلامِ میرردیف الف
سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کا
سنا ہے حال ترے کشتگاں بیچاروں کاہوا نہ گور گڑھا ان ستم کے ماروں کا
ہزار رنگ کھلے گل چمن کے ہیں شاہدکہ روزگار کے سر خون ہے ہزاروں کا
ملا ہے خاک میں کس کس طرح کا عالم یاںنکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا
عرق فشانی سے اس زلف کی ہراساں ہوںبھلا نہیں ہے بہت ٹوٹنا بھی تاروں کا
علاج کرتے ہیں سودائے عشق کا میرےخلل پذیر ہوا ہے دماغ یاروں کا
تری ہی زلف کو محشر میں ہم دکھا دیں گےجو کوئی مانگے گا نامہ سیاہ کاروں کا
خراش سینۂ عاشق بھی دل کو لگ جائےعجب طرح کا ہے فرقہ یہ دل فگاروں کا
نگاہ مست کے مارے تری خراب ہیں شوخنہ ٹھور ہے نہ ٹھکانا ہے ہوشیاروں کا
کریں ہیں دعویٰ خوش چشمی آہوان دشتٹک ایک دیکھنے چل ملک ان گنواروں کا
تڑپ کے مرنے سے دل کے کہ مغفرت ہو اسےجہاں میں کچھ تو رہا نام بے قراروں کا
تڑپ کے خرمن گل پر کبھی گر اے بجلیجلانا کیا ہے مرے آشیاں کے خاروں کا
تمہیں تو زہد و ورع پر بہت ہے اپنے غرورخدا ہے شیخ جی ہم بھی گناہ گاروں کا
اٹھے ہے گرد کی جا نالہ گور سے اس کیغبار میرؔ بھی عاشق ہے نے سواروں کا
۵۳ / ۵۸۲