کلامِ میرردیف الف

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا

۱

سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہواپھر ان دنوں میں دیدۂ خوں بار نم ہوا

۲

آئے برنگ ابر عرق ناک تم ادھرحیران ہوں کہ آج کدھر کو کرم ہوا

۳

تجھ بن شراب پی کے موئے سب ترے خرابساقی بغیر تیرے انہیں جام سم ہوا

۴

کافر ہمارے دل کی نہ پوچھ اپنے عشق میںبیت الحرام تھا سو وہ بیت الصنم ہوا

۵

خانہ خراب کس کا کیا تیری چشم نےتھا کون یوں جسے تو نصیب ایک دم ہوا

۶

تلوار کس کے خون میں سر ڈوب ہے ترییہ کس اجل رسیدہ کے گھر پر ستم ہوا

۷

آئی نظر جو گور سلیماں کی ایک روزکوچے پر اس مزار کے تھا یہ رقم ہوا

۸

کاے سرکشاں جہان میں کھینچا تھا میں بھی سرپایان کار مور کی خاک قدم ہوا

۹

افسوس کی بھی چشم تھی ان سے خلاف عقلبار علاقہ سے تو عبث پشت خم ہوا

۱۰

اہل جہاں ہیں سارے ترے جیتے جی تلکپوچھیں گے بھی نہ بات جہاں تو عدم ہوا

۱۱

کیا کیا عزیز دوست ملے میرؔ خاک میںنادان یاں کسو کا کسو کو بھی غم ہوا

۵۴ / ۵۸۲