کلامِ میرردیف الف

رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگا

۱

رہتا ہے ہڈیوں سے مری جو ہما لگاکچھ درد عاشقی کا اسے بھی مزہ لگا

۲

غافل نہ سوز عشق سے رہ پھر کباب ہےگر لائحہ اس آگ کا ٹک دل کو جا لگا

۳

دیکھا ہمیں جہاں وہ تہاں آگ ہو گیابھڑکا رکھا ہے لوگوں نے اس کو لگا لگا

۴

مہلت تنک بھی ہو تو سخن کچھ اثر کرےمیں اٹھ گیا کہ غیر ترے کانوں آ لگا

۵

اب آب چشم ہی ہے ہمارا محیط خلقدریا کو ہم نے کب کا کنارے رکھا لگا

۶

ہر چند اس کی تیغ ستم تھی بلند لیکوہ طور بد ہمیں تو قیامت بھلا لگا

۷

مجلس میں اس کی بار نہ مجھ کو ملی کبھودروازے ہی سے گرچہ بہت میں رہا لگا

۸

بوسہ لبوں کا مانگتے ہی منہ بگڑ گیاکیا اتنی میری بات کا تم کو برا لگا

۹

عالم کی سیر میرؔ کی صحبت میں ہو گئیطالع سے میرے ہاتھ یہ بے دست و پا لگا

۵۵ / ۵۸۲