کلامِ میرردیف الف
ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہا
۱
ستم سے گو یہ ترے کشتۂ وفا نہ رہارہے جہان میں تو دیر میں رہا نہ رہا
۲
کب اس کا نام لیے غش نہ آ گیا مجھ کودل ستم زدہ کس وقت اس میں جا نہ رہا
۳
ملانا آنکھ کا ہر دم فریب تھا دیکھاپھر ایک دم میں وہ بے دید آشنا نہ رہا
۴
موئے تو ہم پہ دل پر کو خوب خالی کرہزار شکر کسو سے ہمیں گلہ نہ رہا
۵
ادھر کھلی مری چھاتی ادھر نمک چھڑکاجراحت اس کو دکھانے کا اب مزہ نہ رہا
۶
ہوا ہوں تنگ بہت کوئی دن میں سن لیجوکہ جی سے ہاتھ اٹھا کر وہ اٹھ گیا نہ رہا
۷
ستم کا اس کے بہت میں نزار ہوں ممنونجگر تمام ہوا خون و دل بجا نہ رہا
۸
اگرچہ رہ گئے تھے استخوان و پوست ولےلگائی ایسی کہ تسمہ بھی پھر لگا نہ رہا
۹
حمیت اس کے تئیں کہتے ہیں جو میرؔ میں تھیگیا جہاں سے پہ تیری گلی میں آ نہ رہا
۵۶ / ۵۸۲