کلامِ میرردیف الف

رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیا

۱

رفتار و طور و طرز و روش کا یہ ڈھب ہے کیاپہلے سلوک ایسے ہی تیرے تھے اب ہے کیا

۲

ہم دل زدہ نہ رکھتے تھے تم سے یہ چشم داشتکرتے ہو قہر لطف کی جاگا غضب ہے کیا

۳

عزت بھی بعد ذلت بسیار چھیڑ ہےمجلس میں جب خفیف کیا پھر ادب ہے کیا

۴

آئے ہم آپ میں تو نہ پہچانے پھر گئےاس راہ صعب عشق میں یارو تعب ہے کیا

۵

حیراں ہیں اس دہن کے عزیزان خوردہ بیںیہ بھی مقام ہائے تامل طلب ہے کیا

۶

آنکھیں جو ہوویں تیری تو تو عین کر رکھےعالم تمام گر وہ نہیں تو یہ سب ہے کیا

۷

اس آفتاب بن نہیں کچھ سوجھتا ہمیںگر یہ ہی اپنے دن ہیں تو تاریک شب ہے کیا

۸

تم نے ہمیشہ جور و ستم بے سبب کیےاپنا ہی ظرف تھا جو نہ پوچھا سبب ہے کیا

۹

کیوں کر تمہاری بات کرے کوئی اعتبارظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا

۱۰

اس مہ بغیر میرؔ کا مرنا عجب ہواہر چند مرگ عاشق مسکیں عجب ہے کیا

۵۸ / ۵۸۲