کلامِ میرردیف الف
غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا
غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیااس خانماں خراب نے آنکھوں میں گھر کیا
رنگ اڑ چلا چمن میں گلوں کا تو کیا نسیمہم کو تو روزگار نے بے بال و پر کیا
نافع جو تھیں مزاج کو اول سو عشق میںآخر انہیں دواؤں نے ہم کو ضرر کیا
مرتا ہوں جان دیں ہیں وطن داریوں پہ لوگاور سنتے جاتے ہیں کہ ہر اک نے سفر کیا
کیا جانوں بزم عیش کہ ساقی کی چشم دیکھمیں صحبت شراب سے آگے سفر کیا
جس دم کہ تیغ عشق کھنچی بوالہوس کہاںسن لیجیو کہ ہم ہی نے سینہ سپر کیا
دل زخمی ہو کے تجھ تئیں پہنچا تو کم نہیںاس نیم کشتہ نے بھی قیامت جگر کیا
ہے کون آپ میں جو ملے تجھ سے مست نازذوق خبر ہی نے تو ہمیں بے خبر کیا
وہ دشت خوف ناک رہا ہے مرا وطنسن کر جسے خضر نے سفر سے حذر کیا
کچھ کم نہیں ہیں شعبدہ بازوں سے میگساردارو پلا کے شیخ کو آدم سے خر کیا
ہیں چاروں طرف خیمے کھڑے گرد باد کےکیا جانیے جنوں نے ارادہ کدھر کیا
لکنت تری زبان کی ہے سحر جس سے شوخیک حرف نیم گفتہ نے دل پر اثر کیا
بے شرم محض ہے وہ گنہ گار جن نے میرؔابر کرم کے سامنے داماں تر کیا
۵۹ / ۵۸۲