کلامِ میرردیف الف
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا
۱
غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہادل کے جانے کا نہایت غم رہا
۲
حسن تھا تیرا بہت عالم فریبخط کے آنے پر بھی اک عالم رہا
۳
دل نہ پہنچا گوشۂ داماں تلکقطرۂ خوں تھا مژہ پر جم رہا
۴
سنتے ہیں لیلیٰ کے خیمے کو سیاہاس میں مجنوں کا مگر ماتم رہا
۵
جامۂ احرام زاہد پر نہ جاتھا حرم میں لیک نامحرم رہا
۶
زلفیں کھولیں تو تو ٹک آیا نظرعمر بھر یاں کام دل برہم رہا
۷
اس کے لب سے تلخ ہم سنتے رہےاپنے حق میں آب حیواں سم رہا
۸
میرے رونے کی حقیقت جس میں تھیایک مدت تک وہ کاغذ نم رہا
۹
صبح پیری شام ہونے آئی میرؔتو نہ چیتا یاں بہت دن کم رہا
۶۰ / ۵۸۲