کلامِ میرردیف الف
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیا
۱
عشق ہمارے خیال پڑا ہے خواب گئی آرام گیاجی کا جانا ٹھہر رہا ہے صبح گیا یا شام گیا
۲
عشق کیا سو دین گیا ایمان گیا اسلام گیادل نے ایسا کام کیا کچھ جس سے میں ناکام گیا
۳
کس کس اپنی کل کو رووے ہجراں میں بے کل اس کاخواب گئی ہے تاب گئی ہے چین گیا آرام گیا
۴
آیا یاں سے جانا ہی تو جی کا چھپانا کیا حاصلآج گیا یا کل جاوے گا صبح گیا یا شام گیا
۵
ہائے جوانی کیا کیا کہیے شور سروں میں رکھتے تھےاب کیا ہے وہ عہد گیا وہ موسم وہ ہنگام گیا
۶
گالی جھڑکی خشم و خشونت یہ تو سر دست اکثر ہیںلطف گیا احسان گیا انعام گیا اکرام گیا
۷
لکھنا کہنا ترک ہوا تھا آپس میں تو مدت سےاب جو قرار کیا ہے دل سے خط بھی گیا پیغام گیا
۸
نالۂ میرؔ سواد میں ہم تک دوشیں شب سے نہیں آیاشاید شہر سے اس ظالم کے عاشق وہ بدنام گیا
۶۱ / ۵۸۲