کلامِ میرردیف الف
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جانا
لذت سے نہیں خالی جانوں کا کھپا جاناکب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزہ جانا
ہم جاہ و حشم یاں کا کیا کہیے کہ کیا جاناخاتم کو سلیماں کی انگشتر پا جانا
یہ بھی ہے ادا کوئی خورشید نمط پیارےمنہ صبح دکھا جانا پھر شام چھپا جانا
کب بندگی میری سی بندہ کرے گا کوئیجانے ہے خدا اس کو میں تجھ کو خدا جانا
تھا ناز بہت ہم کو دانست پر اپنی بھیآخر وہ برا نکلا ہم جس کو بھلا جانا
گردن کشی کیا حاصل مانند بگولے کیاس دشت میں سر گاڑے جوں سیل چلا جانا
اس گریۂ خونیں کا ہو ضبط تو بہتر ہےاچھا نہیں چہرے پر لوہو کا بہا جانا
یہ نقش دلوں پر سے جانے کا نہیں اس کوعاشق کے حقوق آ کر ناحق بھی مٹا جانا
ڈھب دیکھنے کا ایدھر ایسا ہی تمہارا تھاجاتے تو ہو پر ہم سے ٹک آنکھ ملا جانا
اس شمع کی مجلس میں جانا ہمیں پھر واں سےاک زخم زباں تازہ ہر روز اٹھا جانا
اے شور قیامت ہم سوتے ہی نہ رہ جاویںاس راہ سے نکلے تو ہم کو بھی جگا جانا
کیا پانی کے مول آ کر مالک نے گہر بیچاہے سخت گراں سستا یوسف کا بکا جانا
ہے میری تری نسبت روح اور جسد کی سیکب آپ سے میں تجھ کو اے جان جدا جانا
جاتی ہے گزر جی پر اس وقت قیامت سییاد آوے ہے جب تیرا یکبارگی آ جانا
برسوں سے مرے اس کی رہتی ہے یہی صحبتتیغ اس کو اٹھانا تو سر مجھ کو جھکا جانا
کب میرؔ بسر آئے تم ویسے فریبی سےدل کو تو لگا بیٹھے لیکن نہ لگا جانا
۶۲ / ۵۸۲