کلامِ میرردیف الف
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہا
۱
عشق کیا کیا آفتیں لاتا رہاآخر اب دوری میں جی جاتا رہا
۲
مہر و مہ گل پھول سب تھے پر ہمیںچہرئی چہرہ ہی وہ بھاتا رہا
۳
دل ہوا کب عشق کی رہ کا دلیلمیں تو خود گم ہی اسے پاتا رہا
۴
منہ دکھاتا برسوں وہ خوش رو نہیںچاہ کا یوں کب تلک ناتا رہا
۵
کچھ نہ میں سمجھا جنون و عشق میںدیر ناصح مجھ کو سمجھاتا رہا
۶
داغ تھا جو سر پہ میرے شمع ساںپاؤں تک مجھ کو وہی کھاتا رہا
۷
کیسے کیسے رک گئے ہیں میرؔ ہممدتوں منہ تک جگر آتا رہا
۶۳ / ۵۸۲