کلامِ میرردیف الف
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا
۱
غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوایا روز اٹھ کے سر کو پھرایا تو کیا ہوا
۲
ان نے تو مجھ کو جھوٹے بھی پوچھا نہ ایک بارمیں نے اسے ہزار جتایا تو کیا ہوا
۳
خواہاں نہیں وہ کیوں ہی میں اپنی طرف سے یوںدل دے کے اس کے ہاتھ بکا تو کیا ہوا
۴
اب سعی کر سپہر کہ میرے موئے گئےاس کا مزاج مہر پہ آیا تو کیا ہوا
۵
مت رنجہ کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاددل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا
۶
میں صید ناتواں بھی تجھے کیا کروں گا یادظالم اک اور تیر لگایا تو کیا ہوا
۷
کیا کیا دعائیں مانگی ہیں خلوت میں شیخ یوںظاہر جہاں سے ہاتھ اٹھایا تو کیا ہوا
۸
وہ فکر کر کہ چاک جگر پاوے التیامناصح جو تو نے جامہ سلایا تو کیا ہوا
۹
جیتے تو میرؔ ان نے مجھے داغ ہی رکھاپھر گور پر چراغ جلایا تو کیا ہوا
۶۴ / ۵۸۲