کلامِ میرردیف الف
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کا
۱
غلط ہے عشق میں اے بوالہوس اندیشہ راحت کارواج اس ملک میں ہے درد و داغ و رنج و کلفت کا
۲
زمیں اک صفحۂ تصویر بیہوشاں سے مانا ہےیہ مجلس جب سے ہے اچھا نہیں کچھ رنگ صحبت کا
۳
جہاں جلوے سے اس محبوب کے یکسر لبالب ہےنظر پیدا کر اول پھر تماشا دیکھ قدرت کا
۴
ہنوز آوارۂ لیلیٰ ہے جان رفتہ مجنوں کیموئے پر بھی رہا ہوتا نہیں وابستہ الفت کا
۵
حریف بے جگر ہے صبر ورنہ کل کی صحبت میںنیاز و ناز کا جھگڑا گرو تھا ایک جرأت کا
۶
نگاہ یاس بھی اس صید افگن پر غنیمت ہےنہایت تنگ ہے اے صید بسمل وقت فرصت کا
۷
خرابی دل کی اس حد ہے کہ یہ سمجھا نہیں جاتاکہ آبادی بھی یاں تھی یا کہ ویرانہ تھا مدت کا
۸
نگاہ مست نے اس کی لٹائی خانقہ ساریپڑا ہے برہم اب تک کارخانہ زہد و طاعت کا
۹
قدم ٹک دیکھ کر رکھ میرؔ سر دل سے نکالے گاپلک سے شوخ تر کانٹا ہے صحرائے محبت کا
۶۵ / ۵۸۲