کلامِ میرردیف الف
محبت کا جب روز بازار ہوگا
۱
محبت کا جب روز بازار ہوگابکیں گے سر اور کم خریدار ہوگا
۲
تسلی ہوا صبر سے کچھ میں تجھ بنکبھی یہ قیامت طرحدار ہوگا
۳
صبا موئے زلف اس کا ٹوٹے تو ڈر ہےکہ اک وقت میں یہ سیہ مار ہوگا
۴
مرا دانت ہے تیرے ہونٹوں پہ مت پوچھکہوں گا تو لڑنے کو تیار ہوگا
۵
نہ خالی رہے گی مری جاگہ گر میںنہ ہوں گا تو اندوہ بسیار ہوگا
۶
یہ منصور کا خون ناحق کہ حق تھاقیامت کو کس کس سے خوں دار ہوگا
۷
عجب شیخ جی کی ہے شکل و شمائلملے گا تو صورت سے بیزار ہوگا
۸
نہ رو عشق میں دشت گردی کو مجنوںابھی کیا ہوا ہے بہت خوار ہوگا
۹
کھنچے عہد خط میں بھی دل تیری جانبکبھو تو قیامت طرحدار ہوگا
۱۰
زمیں گیر ہو عجز سے تو کہ اک دنیہ دیوار کا سایہ دیوار ہوگا
۱۱
نہ مر کر بھی چھوٹے گا اتنا رکے گاترے دام میں جو گرفتار ہوگا
۱۲
نہ پوچھ اپنی مجلس میں ہے میرؔ بھی یاںجو ہوگا تو جیسے گنہ گار ہوگا
۶۶ / ۵۸۲