کلامِ میرردیف الف
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیا
۱
قابو خزاں سے ضعف کا گلشن میں بن گیادوش ہوا پہ رنگ گل و یاسمن گیا
۲
برگشتہ بخت دیکھ کہ قاصد سفر سے میںبھیجا تھا اس کے پاس سو میرے وطن گیا
۳
خاطر نشاں اے صید فگن ہوگی کب تریتیروں کے مارے میرا کلیجہ تو چھن گیا
۴
یادش بخیر دشت میں مانند عنکبوتدامن کے اپنے تار جو خاروں پہ تن گیا
۵
مارا تھا کس لباس میں عریانی نے مجھےجس سے تہ زمین بھی میں بے کفن گیا
۶
آئی اگر بہار تو اب ہم کو کیا صباہم سے تو آشیاں بھی گیا اور چمن گیا
۷
سرسبز ملک ہند میں ایسا ہوا کہ میرؔیہ ریختہ لکھا ہوا تیرا دکن گیا
۶۷ / ۵۸۲