کلامِ میرردیف الف
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا
۱
مانند شمع مجلس شب اشکبار پایاالقصہ میرؔ کو ہم بے اختیار پایا
۲
احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرےافسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا
۳
جیتے جو ضعف ہو کر زخم رسا سے اس کےسینے کو چاک دیکھا دل کو فگار پایا
۴
شہر دل ایک مدت اجڑا بسا غموں میںآخر اجاڑ دینا اس کا قرار پایا
۵
اتنا نہ تجھ سے ملتے نے دل کو کھو کے روتےجیسا کیا تھا ہم نے ویسا ہی یار پایا
۶
کیا اعتبار یاں کا پھر اس کو خوار دیکھاجس نے جہاں میں آ کر کچھ اعتبار پایا
۷
آہوں کے شعلے جس جا اٹھتے تھے میرؔ سے شبواں جا کے صبح دیکھا مشت غبار پایا
۶۸ / ۵۸۲