کلامِ میرردیف الف
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھا
لخت جگر تو اپنے یک لخت رو چکا تھااشک فقط کا جھمکا آنکھوں سے لگ رہا تھا
دامن میں آج دیکھا پھر لخت میں لے آیاٹکڑا کوئی جگر کا پلکوں میں رہ گیا تھا
اس قید جیب سے میں چھوٹا جنوں کی دولتورنہ گلا یہ میرا جوں طوق میں پھنسا تھا
مشت نمک کی خاطر اس واسطے ہوں حیراںکل زخم دل نہایت دل کو مرے لگا تھا
اے گرد باد مت دے ہر آن عرض وحشتمیں بھی کسو زمانے اس کام میں بلا تھا
بن کچھ کہے سنا ہے عالم سے میں نے کیا کیاپر تو نے یوں نہ جانا اے بے وفا کہ کیا تھا
روتی ہے شمع اتنا ہر شب کہ کچھ نہ پوچھومیں سوز دل کو اپنے مجلس میں کیوں کہا تھا
شب زخم سینہ اوپر چھڑکا تھا میں نمک کوناسور تو کہاں تھا ظالم بڑا مزہ تھا
سر مار کر ہوا تھا میں خاک اس گلی میںسینے پہ مجھ کو اس کا مذکور نقش پا تھا
سو بخت تیرہ سے ہوں پامالیٔ صبا میںاس دن کے واسطے میں کیا خاک میں ملا تھا
یہ سر گذشت میری افسانہ جو ہوئی ہےمذکور اس کا اس کے کوچے میں جا بجا تھا
سن کر کسی سے وہ بھی کہنے لگا تھا کچھ کچھبے درد کتنے بولے ہاں اس کو کیا ہوا تھا
کہنے لگا کہ جانے میری بلا عزیزاںاحوال تھا کسی کا کچھ میں بھی سن لیا تھا
آنکھیں مری کھلیں جب جی میرؔ کا گیا تبدیکھے سے اس کو ورنہ میرا بھی جی جلا تھا
۶۹ / ۵۸۲