کلامِ میرردیف الف

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کا

۱

منہ تکا ہی کرے ہے جس تس کاحیرتی ہے یہ آئینہ کس کا

۲

شام سے کچھ بجھا سا رہتا ہوںدل ہوا ہے چراغ مفلس کا

۳

تھے برے مغبچوں کے تیور لیکشیخ مے خانے سے بھلا کھسکا

۴

داغ آنکھوں سے کھل رہے ہیں سبہاتھ دستہ ہوا ہے نرگس کا

۵

بحر کم ظرف ہے بسان حبابکاسہ لیس اب ہوا ہے تو جس کا

۶

فیض اے ابر چشم تر سے اٹھاآج دامن وسیع ہے اس کا

۷

تاب کس کو جو حال میرؔ سنےحال ہی اور کچھ ہے مجلس کا

۷۰ / ۵۸۲