کلامِ میرردیف الف
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیا
۱
مکہ گیا مدینہ گیا کربلا گیاجیسا گیا تھا ویسا ہی چل پھر کے آ گیا
۲
دیکھا ہو کچھ اس آمد و شد میں تو میں کہوںخود گم ہوا ہوں بات کی تہہ اب جو پا گیا
۳
کپڑے گلے کے میرے نہ ہوں آب دیدہ کیوںمانند ابر دیدۂ تر اب تو چھا گیا
۴
جاں سوز آہ و نالہ سمجھتا نہیں ہوں میںیک شعلہ میرے دل سے اٹھا تھا جلا گیا
۵
وہ مجھ سے بھاگتا ہی پھرا کبر و ناز سےجوں جوں نیاز کر کے میں اس سے لگا گیا
۶
جور سپہر دوں سے برا حال تھا بہتمیں شرم ناکسی سے زمیں میں سما گیا
۷
دیکھا جو راہ جاتے تبختر کے ساتھ اسےپھر مجھ شکستہ پا سے نہ اک دم رہا گیا
۸
بیٹھا تو بوریے کے تئیں سر پہ رکھ کے میرؔصف کس ادب سے ہم فقرا کی اٹھا گیا
۷۱ / ۵۸۲