کلامِ میرردیف الف
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا
۱
نا کسی سے پاس میرے یار کا آنا گیابس گیا میں جان سے اب اس سے یہ جانا گیا
۲
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تابشمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
۳
ایک ہی چشمک تھی فرصت صحبت احباب کیدیدۂ تر ساتھ لے مجلس سے پیمانہ گیا
۴
گل کھلے صد رنگ تو کیا بے پری سے اے نسیممدتیں گزریں کہ وہ گلزار کا جانا گیا
۵
دور تجھ سے میرؔ نے ایسا تعب کھینچا کہ شوخکل جو میں دیکھا اسے مطلق نہ پہچانا گیا
۷۲ / ۵۸۲